بنگلورو،2؍جولائی(ایس او نیوز)کاویری واٹر مینجمنٹ اتھارٹی اورکاویری واٹر اتھارٹی رگیولیشن کمیٹی کے قیام کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل داخل کرمہ کاریاستی حکومت نے آج آل پارٹی اجلاس میں فیصلہ کیا ہے ۔ آج یہاں ودھان سودھا میں منعقدہ آل پارٹی اجلاس میں ریاستی حکومت کی جانب سے دو سینئر افسروں کو ریاست کے نمائندوں کی حیثیت سے نامزد کرکے 2جولائی کو منعقد ہورہے اتھارٹی اور کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کرکے کرناٹک کانظریہ پیش کرنے کافیصلہ کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی کی جانب سے طلب کئے گئے اجلاس میں یہ معاملہ پارلیمان میں بھی اٹھانے کا فیصلہ کیاگیا ہے ۔اس اجلاس کے بعد نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے ریاستی وزیر برائے آبی وسائل ڈی کے شیو کمار نے کہا کہ 2جولائی کے اجلاس میں شرکت کرنے حکومت کرناٹک نے جن افسروں کو نامزد کیا ہے وہ اتھارٹی اور کمیٹی کے اجلاس میں کرناٹک کے کسانوں کے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے ہمارے نظریہ کو پیش کریں گے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہمارے ارکان پارلیمان سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اپنی پارٹی سے بالا تر ہوکر ریاست کے مفاد میں ایک آواز ہوکر اس معاملہ کو پارلیمان میں اٹھائیں اس کیلئے تمام ارکان پارلیمان تیار ہیں ۔
انہوں نے بتایا کہ اس معاملہ کو لے کرسپریم کورٹ سے رجوع کرنے کابھی فیصلہ کیا گیا ہے ۔ اس کے لئے ماہرین قانون فالی ایس نریمن اورموہن کٹر کی ریاست کے اڈوکیٹ جنرل کو رہنمائی فراہم کریں گے۔وہ ہماری رہنمائی فراہم کریں گے کہ سپریم کورٹ سے کس طرح رجوع کرنا ہے اور ہماری عرضی کیا ہونی چاہئے ۔ کاویری واٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور کاویری واٹر رگیولیشن کمیٹی قائم کرنے مرکز کے فیصلہ کے بعد آل پارٹی اجلاس طلب کرنے کا حکومت نے فیصلہ کیا ہے تاکہ یہ طے ہو کہ اس معاملہ پرحکومت کرناٹک کی حکمت عملی کیا ہونی چاہئے۔وزیر اعلیٰ کمار سوامی نے آل پارٹی اجلاس کی صدارت کی تھی جس میں نائب وزیراعلیٰ جی پرمیشور ،اپوزیشن لیڈر بی ایس ایڈی یورپا ، مرکزی وزیر سدانندا گوڈا ،ریاستی کابینہ کے کئی اراکین اور کئی ارکان پارلیمان اور اراکین اسمبلی نے شرکت کی۔سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا نے اس میٹنگ میں شرکت نہیں کی ،سرکاری ذرائع کے مطابق انہوں نے اس میٹنگ میں شرکت سے معذرت چاہی۔ 22جون کو مرکز نے ایک 9رکنی کاویری واٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور کاویری واٹر رگیولیشن کمیٹی تشکیل دی ہے ۔ جو تمل ناڈو ،کیرلا اورپڈوچیری کے نمائندوں پر مشتمل ہے ۔ کرناٹک کو کوئی نمائندگی نہیں دی گئی ہے۔جبکہ کاویری کا جنم استھان کرناٹک میں ہے ۔22جون کے مرکزکے فیصلہ کے بعد ریاستی حکومت نے 23جون کواتھارٹی اورکمیٹی کے اجلاس میں احتجاج کے طور پر شرکت کیلئے دو ملازمین کو مقرر کیا تھاتاکہ ریاست کے مفاد کو نقصان پہنچنے سے روکا جاسکے ۔18جون کو دورۂ دہلی کے دوران وزیر اعلیٰ کمار سوامی نے وزیراعظم نریندر مودی سے راست ملاقات کرکے کرناٹک کے اعتراض کے باوجودمرکز اتھارٹی اور کمیٹی تشکیل دینے کی شکایت کی تھی اور اس فیصلہ پر جلد سے جلد نظر ثانی کرنے کی درخواست بھی کی تھی۔